حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاراچنار/ مسجد بی بی زینب سلام اللہ علیہا مہورہ، پاراچنار میں خطبۂ جمعہ دیتے ہوئے مجلس علمائے اہل بیتؑ پاراچنار کے صدر علامہ زاہد حسین انقلابی نے باغِ فدک کے تاریخی پس منظر، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے حق اور امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے دورِ خلافت کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ فدک کی واپسی سے متعلق اٹھائے جانے والے اعتراضات کا جائزہ تاریخی حقائق، سیاسی حالات اور حضرت علیؑ کی حکمت عملی کے تناظر میں لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت علی علیہ السلام کے ساڑھے چار سالہ دورِ خلافت کا بڑا حصہ داخلی فتنوں، مسلح بغاوتوں اور جنگوں میں گزرا، اس لیے اس دور کے حالات کو نظرانداز کرکے فدک کی واپسی کو ان کی عدم توجہی سے تعبیر کرنا درست تاریخی تجزیہ نہیں ہے۔

علامہ زاہد حسین انقلابی نے کہا کہ آج معاشرے، بالخصوص نوجوان نسل کے ذہنوں میں یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اگر باغِ فدک حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا حق تھا اور حضرت علی علیہ السلام شجاعت و اقتدار کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے تھے تو اپنے دورِ خلافت میں انہوں نے یہ حق واپس کیوں نہیں لیا؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ حضرت علی علیہ السلام نے امت کی وحدت اور اسلامی مصلحت کو مقدم رکھتے ہوئے سابقہ ادوار میں داخلی تصادم سے اجتناب کیا، لیکن جب آپؑ مسندِ خلافت پر فائز ہوئے تو یکے بعد دیگرے متعدد جنگوں اور سیاسی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے جنگِ جمل، جنگِ صفین اور جنگِ نہروان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف حضرت عائشہ، طلحہ اور زبیر کی قیادت میں جنگِ جمل کا محاذ کھلا، دوسری طرف معاویہ بن ابی سفیان نے شام سے بغاوت کرتے ہوئے جنگِ صفین مسلط کی، جبکہ بعد ازاں خوارج کے فتنے نے جنگِ نہروان کی صورت اختیار کرلی۔ ان مسلسل جنگوں نے اسلامی معاشرے کو شدید انتشار اور خونریزی سے دوچار کیا۔ علامہ انقلابی کے مطابق ایسے حالات میں حضرت علی علیہ السلام کی اولین ترجیح اسلامی نظام، امت کے اتحاد اور داخلی امن کو برقرار رکھنا تھی، نہ کہ فدک کے معاملے پر ایک نیا سیاسی و عسکری محاذ کھولنا۔
باغِ فدک کی تاریخ کے ایک اہم پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر فدک کو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے یہ کہہ کر واپس لیا گیا تھا کہ وہ مسلمانوں کا حق ہے تو پھر خلیفہ سوم کے دور میں اسے مروان بن حکم کو عطیہ کرنے کی کیا توجیہ پیش کی جاسکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ تاریخی روایات کے مطابق حضرت عثمان کے دور میں باغِ فدک مروان بن حکم کے حوالے کیا گیا، جو اس معاملے میں ایک اہم تاریخی سوال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حضرت علی علیہ السلام اپنے دورِ خلافت میں طاقت کے ذریعے فدک واپس لے لیتے تو مخالفین اسے ذاتی یا خاندانی مفاد کے حصول سے تعبیر کرکے ایک نیا اعتراض کھڑا کرسکتے تھے۔

علامہ زاہد حسین انقلابی نے زور دیا کہ تاریخ کے ان واقعات کو محض سیاسی اعتراضات کی بنیاد پر نہیں بلکہ عدل، حق شناسی، حکمت اور امت کے اجتماعی مفاد کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت علی علیہ السلام کا طرزِ عمل اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ حق پر قائم رہنے کے ساتھ ساتھ حالات کی نزاکت، اجتماعی مصلحت اور اسلامی وحدت کا تحفظ بھی قیادت کی اہم ذمہ داری ہے۔
ایران کی استقامت اور یمن کی سربلندی، حق پر ثابت قدمی کا عملی پیغام ہے
خطبۂ جمعہ کے دوسرے حصے میں حالاتِ حاضرہ پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ زاہد حسین انقلابی نے ایمانِ الٰہی، توکل اور حق کے راستے میں استقامت کو کامیابی کی بنیادی شرائط قرار دیا۔ انہوں نے یمن کی سربلندی اور ایران کی مزاحمت و ثابت قدمی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشکلات، دباؤ اور مخالف قوتوں کی سازشوں کے باوجود اپنے اصولوں پر قائم رہنا ہی حقیقی کامیابی کی ضمانت ہے۔

انہوں نے کہا کہ مغربی طاقتوں نے گزشتہ 47 برسوں کے دوران ایران پر مختلف پابندیاں عائد کرکے اس کے سیاسی نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ دباؤ اپنے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکا۔ ان کے بقول ایران کی قیادت کی بصیرت اور عوام کی استقامت نے حالیہ آٹھ ماہ کی ناکہ بندی کے دوران بھی امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کو چیلنج کیا اور ان کے داخلی حالات پر اثرات مرتب کیے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات نے ثابت کردیا ہے کہ کسی قوم کی کامیابی صرف میزائلوں، ڈرونز اور جدید اسلحے کی طاقت سے وابستہ نہیں ہوتی، بلکہ ایمان، عزم، بصیرت اور ثابت قدمی بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے اس تناظر میں واقعۂ کربلا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 61 ہجری میں امام حسین علیہ السلام نے اپنے کردار اور قربانی سے استقامت کا جو درس دیا تھا، آج بھی ان کے پیروکار اسی مکتبِ فکر سے حوصلہ اور رہنمائی حاصل کررہے ہیں۔

پاراچنار کے تناظر میں اتحاد اور دینی بصیرت کی اہمیت
علامہ زاہد حسین انقلابی کی گفتگو کا مجموعی پیغام یہ تھا کہ موجودہ سیاسی و عالمی حالات میں اہل ایمان کو تاریخی حقائق کے درست فہم، اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے وابستگی اور اجتماعی وحدت کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حق و باطل کی کشمکش میں وقتی مشکلات سے مرعوب ہونے کے بجائے ایمان، بصیرت اور استقامت کے ساتھ اپنے اصولوں پر قائم رہنا ضروری ہے۔










آپ کا تبصرہ